نعت رسول مقبول
آپؐ کے ذکر سے ہے دل کو سکون و آرام
آپؐ کی یاد ہی سے پائے زندگی میری دوام
آپؐ کے نقشِ قدم چوم کے راہیں چمکیں
آپؐ کے نام سے روشن ہوا دنیا کا نظام
خدا کے بعد نہیں ثانی آپؐ کا کوئی کہیں
بلند ہمیشہ رہے گا ناموں میں آپؐ کا نام
نگاہِ لطف جو پڑ جائے سنور جائے انجام
کرم کی اک نظر ہو تو مل ہی جائے اکرام
مرا تو ایک ہی سرمایہ، یہی ہے بس کام
درود پڑھتا رہوں آپؐ پر ہر صبح ہر شام
حضورؐ! حشر میں کوثر کا عطا ہو اِک جام
یہی حسرت ہے مری ہر صبح ہر ہر شام
طاہرؔ کی التجا ہے سرِ حشر اے شہِ اَنام
قبول کیجیے اپنا یہ ادنیٰ سا حقیر غلام

تبصرے