امانت کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے
*صادق اور امین کیسے ہوتے ہیں کیسے امانتوں کی حفاظت کی جاتی ہے*
یہ جاننے کیلیے سلطنت عثمانیہ کے ایک سپاہی اور فلسطینی خاندان کا یہ اہم واقعہ پڑھیے۔۔
سن 1915 میں پہلی جنگ عظیم جاری تھی اس دوران سلطنت عثمانیہ کا ایک سپاہی فلسطین میں اپنی ڈیوٹی سرانجام دے رہا ہے۔ اس کے پاس کچھ رقم تھی جو اس نے امانتاً فلسطین کے العلول نامی خاندان کے ایک شخص کے اس درخواست کے ساتھ حوالے کی کہ جب جنگ ختم ہو گی تو وہ واپس آ کر اپنی امانت اپنی رقم لے لے گا۔
فلسطینی خاندان نے اس سپاہی کا انتظار کیا مگر یہ ترک فوجی کبھی پلٹ کر نہیں آیا۔ نہ جانے اسکے ساتھ کیسے حالات پیش آۓ جنگ میں شہید ہوگیا یا بعد میں جہانِ فانی سے رخصت ہوا۔
لیکن آفرین ہے فلسطین کے اس العلول نامی امانتدار خاندان پر جس نے ترک فوجی کی رقم ایک سو چھ برس تک لوہے کی ایک مضبوط تجوری میں سنبھال کر رکھی۔
رقم کی مالیت تیس ہزار امریکی ڈالر کے قریب بتائی جاتی ہے۔
تصویر میں نظر آنے والے صاحب، راغب ھیلمی العلول ہیں جن کے دادا کے بھائی کے پاس یہ امانت رکھوائی گئی تھی۔
ان کے انتقال کے بعد یہ امانت راغب ھیلمی کے سپرد ہوئی تو انہوں نے بھی امانت کی پاسداری کا حق ادا کیا۔ گزشتہ برس کے آخر میں رقم کی حفاظت کرتے ہوۓ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ترک فوجی کی یہ امانت یہ رقم ترک حکومت کے حوالے کر دی جائے کیوں کہ اب رقم کے مالک کی واپسی کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔
اسی سلسلے میں نابلوس میں ایک تقریب منعقد کرواٸی گٸی جس میں ترکی کے سفیر کو وہ امانت پوری کی پوری رقم واپس کی گئی۔
سلطنت عثمانیہ کا وہ سپاہی تو واپس نہیں آیا لیکن ہاں اسکے بیٹے اسکے دین کے رکھوالے ایک دن فلسطین ضرور آٸیں گے۔۔ ان شااللہ
*محمدطاہرسرویابلاگر*
soroyatahir@gmail.com

تبصرے